ممبئی یکم مارچ فروری (ایس او نیوز/پریس ریلیز) ممبئی کے مشہور تجارتی خطہ باندرہ کرلا کمپلیکس (BKC)میں واقع امریکن اسکول میں دھماکہ کرنے کی مبینہ سازش رچنے کے الزامات کے تحت گرفتا ر ملزم انیس انصاری کے مقدمہ کی منگل کو بالآخیر باقاعدہ سماعت شروع ہوئی جس کے دوران فریادی پولس افسر کی گواہی عمل میں آئی جس سے ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے وکیل نے جرح کی ۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق ممبئی سٹی سول سیشن عدالت کے جج جتیند ایل گاندھی کے روبرو اسسٹنٹ پولس انسپکٹر پرمود پوار دنکر سے ایڈوکیٹ شریف شیخ نے تقریباً دن بھر جرح کی جس کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ خفیہ معلومات کی بناء پر سب سے پہلے اس معاملے کی تحقیقات کرنے والے پولس افسر نے اسٹیشن ڈائری، لاگ بک، وہیکل بک اور پرسنل ڈائری تیار نہیں کی جو پولس مینول کے اصول و ضوابط کے مطابق کرنا چاہئے تھا جس سے اس کی تحقیق و تفتیش مشتبہ ہوگئی ۔
ایڈوکیٹ شریف شیخ نے دوان جرح عدالت کے سامنے یہ بات لانے کی کوشش کی کہ فیس بک پر اکاؤنٹ انیس انصاری نے نہیں بلکہ کسی دوسرے شخص نے بنایا تھا اور وہ اس پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھا کیونکہ فیس بک اکاؤنٹ نجی ہوتا ہے اور اس کے اندر کیا لکھا پڑھا جارہا ہے اس کی معلومات صرف اس شخص کے پاس ہوتی ہے جس کے پاس پاس ورڈ کی جانکاری ہوتی ہے لہذا اس معاملے میں پولس کا یہ دعوی کھوکھلا ثابت ہوتا ہیکہ اس کے مخبر کو سب جانکاری تھی کہ ملزم انصاری نے فیس بک پر منصوبہ بنایا تھا کہ وہ غیر ملکی کو نشانہ بنانے والا ہے اور BKC میں واقع امریکن اسکو ل میں بم دھماکہ کریگا ۔
آج سرکاری گواہ سے وکیل استغاثہ مدھوکردلوی نے بھی سوالات کیئے جس کے جواب میں اس نے ملزم کی گرفتاری اور ایف آئی آر درج کرنے کے تعلق سے عدالت کو بتایا۔
دورن کارروائی عدالت میں ایڈوکیٹ شاہد ندیم ، ایڈوکیٹ شروتی ویدیہ و ددیگر موجود، سرکاری گواہ کے بیانات کے اندارج کے بعد عدالت نے استغاثہ کو حکم دیا کہ وہ معاملے کی اگلی سماعت یعنی کے ۱۳؍اپریل کو عدالت میں دوسرے سرکاری گواہ کو پیش کرے۔
آج کی عدالتی کارروائی کے اختتام کے بعد جمعیۃ علماء قانونی امدا د کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ ۱۸؍ اکتوبر ۲۰۱۴ ء کو ملزم انیس انصاری کو گرفتار کیا گیا تھا جب سے جمعیۃ علماء اس کے مقدمہ کی پیروی کررہی ہے نیزاس درمیان ملزم کی ضمانت پر رہائی کے تعلق سے نچلی عدالت سے لیکر سپریم کورٹ تک کوشش کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ ماہ ہی ملزم کی ضمانت عرضداشت پر سپریم کورٹ میں سماعت عمل میں آئی تھی جس کے دوران عدالت نے ملزم کو ضمانت پررہا کرنے سے انکار کردیا تھا لیکن اپنے حکم نامہ میں لکھا تھا کے مقدمہ کی سماعت جلد از جلد مکمل کیجائے اور ملزم کو چھ ماہ بعد پھر ممبئی ہائی کورٹ سے رجو ع ہونے کی اجازت دی تھی۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ اگر چھ ماہ کے اندر مقدمہ کی سماعت مکمل نہیں ہوئی تو ملزم کی ضمانت پر رہائی کے لیئے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ممبئی ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ملزم انیس انصاری جو پیشہ سے ایک سافٹ وئیر انجینئر ہے اور گرفتاری سے قبل غیر ملکی کمپنی میں برسر روزگار تھا کو مہاراشٹر انسداد دہشت گرد دستہ ATSنے ۱۸؍ اکتوبر ۲۰۱۴ء کو اس الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا کہ وہ جہادی سرگرمیوں میں ملوث ہے اور وہ مشہور شوشل نیٹورکنگ سائٹ فیس بک پر کسی غیر ملکی سے رابطہ میں تھا اور دونوں نے غیر ملکیوں کو قتل کرنے اور امریکن اسکول کو بم دھماکہ کرنے کی سازش رچ رہے تھے۔